نئی دہلی،24جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ملک میں پبلک سیکٹر کے بینکوں کے غیر کار آمد سرمایہ(این پی اے) بڑھ کر آٹھ لاکھ 45 ہزار 475 کروڑ روپے ہو گیا ہے جو مارچ 2014 تک دو لاکھ 16 ہزار 739 کروڑ روپے تھا۔وزیر مملکت خزانہ شیو پرتاپ شکلا نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ اس سال 31مارچ تک سرکاری شعبے کے 26 بینکوں کا این پی اے بڑھ کر 8,45,475 کروڑ روپے ہو گیا جو مارچ 2014 میں 2,16,739 کروڑ روپے تھا۔ ان چاربرسوں کے دوران کئی اہم بینکوں کا این پی اے چار گنا سے بھی زیادہ بڑھا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا کل این پی اے سب سے زیادہ 2,16,228 کروڑ روپے تک پہنچ گیا جبکہ مارچ 2014 تک یہ 57 819 کروڑ روپے تھا۔ پنجاب نیشنل بینک کا این پی اے 83,897 کروڑ روپے ہو گیا ہے جو مارچ 2014 تک 18,611 کروڑ روپے تھا۔بینک آف انڈیا کا این پی اے مارچ 2014 میں 10,274 کروڑ روپے تھا جو اس سال مارچ تک بڑھ کر 51,086 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اس مدت کے دوران بینک آف بڑودہ کا این پی اے 9,894 کروڑ روپے سے بڑھ کر 48,189 کروڑ روپے ہو گیا۔ کینرا بینک کا این پی اے 7,371 کروڑ روپے سے بالاتر 44,432 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔اس دوران یوکو بینک، یونین بینک آف انڈیا، سنڈیکیٹ بینک، اورینٹل بینک آف کامرس، انڈین اوورسیز بینک اور آئی ڈی بی آئی بینک کے این پی اے میں بھی بھاری اضافہ ہوا ہے۔